اکتوبر کے دنوں میں بٹکوٹ، پہلگام اور کشمیر کے دیگر علاقوں میں سیب اتارے جاتے ہیں، اخروٹ جھاڑے جاتے ہیں اور مکئی و گندم کی فصل گھروں میں آتی ہے۔ ایسے میں ہر کاشتکار اور باغبان کے ذہن میں ایک سوال ضرور آتا ہے: ہماری پیداوار میں اللہ کا حق کتنا ہے؟ شریعت کی اصطلاح میں اسی حق کو عشر کہتے ہیں۔
اس مضمون میں ہم عشر کے بنیادی مسائل آسان اردو میں بیان کر رہے ہیں، تاکہ آپ سیب، اخروٹ، سرسوں، مکئی اور گندم کا عشر درست طریقے سے نکال سکیں۔ یہ مسائل فقہِ حنفی کے مطابق ہیں۔ آخر میں دارالعلوم شیخ نورالدین ولی، بٹکوٹ سے رابطے کا طریقہ بھی درج ہے۔
عشر کیا ہے؟
عشر کا لفظی معنی ہے «دسواں حصہ»۔ شریعت میں اس سے مراد زمین کی پیداوار کا وہ حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے مستحقین کو دیا جاتا ہے۔ قرآنِ مجید میں فصل کٹنے کے دن اس کا حق ادا کرنے کا حکم آیا ہے:
ایک اور جگہ ارشاد ہے کہ اپنی کمائی کی اچھی چیزوں میں سے اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا ہے، اللہ کی راہ میں خرچ کرو:
عشر اور زکوٰۃ میں فرق
- زکوٰۃ سونے، چاندی، نقدی اور مالِ تجارت پر نصاب کے ساتھ، سال گزرنے کے بعد واجب ہوتی ہے۔
- عشر زمین کی پیداوار پر واجب ہوتا ہے، اور اس کے لیے سال گزرنے کا انتظار نہیں کیا جاتا۔ فصل کٹتے یا پھل اترتے ہی اس کا وقت آ جاتا ہے۔
عشر کن چیزوں پر واجب ہے؟
فقہِ حنفی میں عشر ہر اس پیداوار پر واجب ہے جو زمین سے اگائی جائے اور جس سے زمین کی آبادکاری مقصود ہو، چاہے وہ اناج ہو، پھل ہو یا سبزی۔ مثلاً:
- اناج: گندم، مکئی، چاول، جو۔
- تیل والے بیج: سرسوں۔
- پھل: سیب، اخروٹ، ناشپاتی اور دوسرے پھل۔
- دالیں اور سبزیاں۔
البتہ لکڑی، گھاس اور بانس جیسی چیزوں پر عشر واجب نہیں۔
کیا نصاب شرط ہے؟
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کے مطابق، جس پر فتویٰ ہے، عشر کے لیے نصاب شرط نہیں۔ یعنی پیداوار تھوڑی ہو یا زیادہ، عشر واجب ہے۔ دوسرے ائمہ (شافعیہ، مالکیہ اور حنابلہ) کے ہاں کچھ شرائط مختلف ہیں۔ ہم یہاں مسلکِ حنفی بیان کر رہے ہیں۔
سیب اور اخروٹ کا عشر
کشمیر کے باغبانوں کے لیے یہ سب سے اہم سوال ہے۔ فقہِ حنفی کے مطابق سیب، اخروٹ اور دوسرے پھلوں پر بھی عشر واجب ہے۔ اگر پھل منڈی میں بیچ دیا جائے تو بیچنے سے ملنے والی قیمت کا دسواں یا بیسواں حصہ (پانی کے ذریعے کے مطابق) نکالا جائے گا۔ باغ ٹھیکے یا بٹائی پر دیا گیا ہو تو اس کے مسائل مفتی صاحب سے پوچھ لیں۔
مکئی، گندم اور سرسوں کا عشر
ان کا عشر اسی جنس میں (جیسے مکئی میں سے مکئی) بھی دیا جا سکتا ہے اور چاہیں تو اس کی قیمت بھی ادا کی جا سکتی ہے۔
عشر کی شرح: دسواں حصہ یا بیسواں حصہ؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرح کا فرق خود بیان فرما دیا ہے:
یعنی جو زمین بارش اور چشموں کے پانی سے سیراب ہو اس میں دسواں حصہ ہے، اور جو زمین ڈول وغیرہ سے خرچ اور محنت کے ساتھ سیراب کی جائے اس میں بیسواں حصہ۔
| سیرابی کا ذریعہ | شرح | 100 کلو پیداوار میں |
|---|---|---|
| بارش، چشمہ، ندی یا نالے کا قدرتی پانی (بغیر خرچ کے) | عشر: دسواں حصہ (10%) | 10 کلو |
| ٹیوب ویل، پمپ، ڈول یا خریدا ہوا پانی (خرچ اور محنت سے) | نصف عشر: بیسواں حصہ (5%) | 5 کلو |
اگر زمین کو دونوں طریقوں سے پانی ملتا رہا ہو تو جس ذریعے سے زیادہ مدت سیرابی ہوئی، اسی کا اعتبار کیا جائے گا۔ صورت واضح نہ ہو تو مفتی صاحب سے رجوع کریں۔
کسی باغ سے 2,000 کلو سیب حاصل ہوئے اور باغ قدرتی پانی سے سیراب ہوتا ہے تو عشر 200 کلو بنے گا۔ اگر باغ ٹیوب ویل سے سیراب ہوتا ہو تو 100 کلو۔ اگر وہ سیب بیچ کر ₹1,00,000 ملے تو عشر بالترتیب ₹10,000 یا ₹5,000 ہوگا۔
عشر کب نکالا جائے؟
عشر کا وقت فصل کٹنے اور پھل اتارنے کا وقت ہے۔ قرآن کے الفاظ «يَوْمَ حَصَادِهِ» اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس میں سال گزرنے کا انتظار نہ کریں اور بلاوجہ تاخیر بھی نہ کریں۔
کیا اخراجات منہا کیے جائیں؟
فقہِ حنفی کے مطابق مزدوری، بیج، کھاد اور دوسرے اخراجات منہا کیے بغیر پوری پیداوار پر عشر نکالا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ علماء کے درمیان مختلف فیہ ہے، اس لیے اپنی صورت کے مطابق کسی مستند مفتی سے تسلی کر لیں۔
عشر کس کو دیا جائے؟
عشر کے مصارف وہی ہیں جو زکوٰۃ کے ہیں، جو سورۃ التوبہ کی آیت 60 میں بیان ہوئے ہیں۔ عام طور پر عشر ان لوگوں کو دیا جاتا ہے:
- فقیر اور مسکین، جن کے پاس ضرورت سے زائد نصاب کے برابر مال نہ ہو۔
- وہ مقروض جس کے پاس قرض ادا کرنے کے لیے مال نہ ہو۔
- وہ مسافر جو سفر میں محتاج ہو گیا ہو۔
عشر ان کو نہیں دیا جا سکتا:
- صاحبِ نصاب مال دار کو۔
- سید یا ہاشمی خاندان کے افراد کو۔
- اپنے والدین، دادا دادی، اولاد، پوتے پوتیوں اور میاں بیوی کو۔
ایک اہم شرط تملیک ہے، یعنی مستحق کو عشر کا مالک بنا دینا۔ اس لیے عشر کو براہِ راست عمارت کی تعمیر یا تنخواہوں جیسے کاموں میں خرچ کرنا کافی نہیں ہوتا۔
مدرسے کے مستحق طلبہ کو عشر دینا
بہت سے لوگ عشر دینی مدارس کے ذریعے غریب اور مستحق طلبہ تک پہنچاتے ہیں، تاکہ ان کے کھانے، لباس اور کتابوں کی ضروریات شرعی طریقے سے پوری ہوں۔ کسی ادارے کو دینے سے پہلے یہ ضرور معلوم کر لیں کہ عشر و زکوٰۃ کی رقم عام چندے سے الگ رکھی جاتی ہے اور تملیک کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
دارالعلوم شیخ نورالدین ولی، بٹکوٹ پہلگام کے ساتھ تعاون
دارالعلوم شیخ نورالدین ولی (رحمہ اللہ)، بٹکوٹ، پہلگام، کشمیر کی طرف سے جاری اپیل میں سیب، اخروٹ، سرسوں، مکئی اور گندم کی صورت میں اپنا حصہ دینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ ادارے کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ہمارا تعارف کا صفحہ دیکھیں۔ اپنا حصہ پہنچانے کے لیے ان ذرائع سے رابطہ کریں:
- اکاؤنٹ نمبر
- 0122010100001061
- آئی ایف ایس سی کوڈ
- JAKA0PHLGAM
- رابطہ نمبر
- 8825066361
رقم یا جنس بھیجنے سے پہلے ادارے کے ذمہ دار سے فون پر بات کر لیں اور صاف بتا دیں کہ یہ عشر ہے، تاکہ اسے اسی مد میں رکھا جائے۔ مزید معلومات کے لیے تعاون کا صفحہ اور رابطہ کا صفحہ دیکھیں۔
عشر ادا کرنے کے آسان مراحل
- پیداوار معلوم کریں: کل وزن یا فروخت سے ملنے والی کل رقم لکھ لیں۔
- پانی کا ذریعہ دیکھیں: بارش اور چشمہ ہے یا ٹیوب ویل اور پمپ؟
- حساب لگائیں: قدرتی پانی میں دسواں حصہ، خرچ سے سیرابی میں بیسواں حصہ۔
- مستحق یا قابلِ اعتماد ادارہ چنیں: جہاں تملیک کے ساتھ شرعی خرچ ہوتا ہو۔
- نیت کے ساتھ جلد ادا کریں: عشر کی نیت کریں اور فصل کٹنے کے بعد تاخیر نہ کریں۔
عشر میں ہونے والی عام غلطیاں
- پھلوں اور باغات کو عشر سے مستثنیٰ سمجھ لینا۔
- بغیر پوچھے اخراجات منہا کر کے کم عشر نکالنا۔
- عشر کی ادائیگی کو اگلے سال تک مؤخر کرنا۔
- عشر اور زکوٰۃ کو آپس میں ملا دینا۔
- رقم بھیجتے وقت ادارے کو یہ نہ بتانا کہ یہ عشر ہے۔
- غیر مستحق یا ہاشمی خاندان کو دے دینا۔
یہ مضمون عمومی رہنمائی کے لیے ہے اور فقہِ حنفی کے مطابق ہے۔ مشترکہ زمین، ٹھیکے یا بٹائی، قرض اور دیگر خاص صورتوں میں اپنے علاقے کے کسی مستند مفتی صاحب سے رجوع ضرور کریں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
عشر کیا ہے؟
عشر زمین کی پیداوار کا وہ حصہ ہے جو شریعت کے حکم سے مستحقین کو دیا جاتا ہے۔ بارش یا قدرتی پانی سے سیراب زمین میں پیداوار کا دسواں حصہ اور خرچ و محنت سے سیراب زمین میں بیسواں حصہ واجب ہوتا ہے۔
کیا سیب اور اخروٹ پر بھی عشر واجب ہے؟
فقہِ حنفی کے مطابق ہاں، سیب، اخروٹ اور دوسرے پھلوں پر بھی عشر واجب ہے۔ پھل بیچ دیا جائے تو بیچنے سے ملنے والی قیمت کا دسواں یا بیسواں حصہ، پانی کے ذریعے کے مطابق، نکالا جاتا ہے۔
عشر دسواں حصہ ہے یا بیسواں؟
اگر زمین بارش، چشمے یا ندی کے قدرتی پانی سے بغیر خرچ کے سیراب ہو تو دسواں حصہ (عشر) واجب ہے۔ اگر ٹیوب ویل، پمپ یا خریدے ہوئے پانی سے سیرابی ہو تو بیسواں حصہ (نصف عشر) واجب ہے۔
کیا عشر کے لیے نصاب یا سال گزرنا شرط ہے؟
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کے مطابق، جس پر فتویٰ ہے، عشر میں نہ نصاب شرط ہے اور نہ سال گزرنا۔ فصل کٹنے یا پھل اتارنے کے وقت عشر واجب ہو جاتا ہے۔ دیگر ائمہ کے ہاں بعض شرائط مختلف ہیں۔
کیا عشر مدرسے کو دے سکتے ہیں؟
عشر کے مصارف وہی ہیں جو زکوٰۃ کے ہیں، اس لیے مدرسے کے غریب اور مستحق طلبہ کو تملیک کے ساتھ دیا جا سکتا ہے۔ ادارے کو دینے سے پہلے معلوم کر لیں کہ عشر و زکوٰۃ کا حساب الگ رکھا جاتا ہے اور شرعی طریقے سے خرچ ہوتا ہے۔
مزید دیکھیں
- ہمارا تعارفدارالعلوم شیخ نورالدین ولی، بٹکوٹ پہلگام کے بارے میں مزید جانیں۔
- تعاون کا صفحہعشر، زکوٰۃ اور صدقات کے ذریعے دارالعلوم کا ساتھ دینے کا طریقہ۔
- رابطہ کریںفون یا پیغام کے ذریعے ادارے کے ذمہ داران سے بات کریں۔
